ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منموہن سنگھ شریف آدمی ہیں، ورنہ پی ایم مودی کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کی تجویز بھی لا سکتے تھے: غلام نبی آزاد 

منموہن سنگھ شریف آدمی ہیں، ورنہ پی ایم مودی کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کی تجویز بھی لا سکتے تھے: غلام نبی آزاد 

Wed, 20 Dec 2017 23:45:54    S.O. News Service

نئی دہلی،20؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گجرات میں بی جے پی کو شکست دینے کے لئے مبینہ طور پر پاکستان کی سازش میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے شامل ہونے کے الزام کو لے کر کانگریس وزیر اعظم مودی سے معافی کے مطالبے پر اڑی ہوئی ہے۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ راجیہ سبھا رکن ہونے کی وجہ سے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے پاس بھی اختیار ہے کہ وہ وزیر اعظم مودی کے خلاف استحقاق خلاف ورزی کی تجویز لے کر آئیں۔لیکن آزاد نے بھی کہا کہ کیونکہ منموہن سنگھ شریف آدمی ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ایک وزیر اعظم کے خلاف استحقاق خلاف ورزی کی تجویز لے کر ایک سابق وزیر اعظم آئے ، لہٰذا کانگریس وزیر اعظم سے اس پورے معاملے پر صفائی چاہتی ہے۔بتا دیں کہ وزیر اعظم مودی کے بیان پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تعطل جاری ہے۔کانگریس کا مطالبہ ہے کہ مودی کم از کم صفائی ہی دیں۔منی شنکر ایّر کے گھر میٹنگ کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات کے انتخابی جلسوں میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ پر جو الزام لگائے اسے لے کر لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں ہنگامہ ہوتا رہا۔کانگریس کا مطالبہ ہے کہ یا تو وزیر اعظم مودی اس بات کے ثبوت پیش کریں کہ اس مبینہ ملاقات میں گجرات انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کی کوئی سازش رچی گئی تھی یا پھر وہ اپنے اس بیان کے لئے معافی مانگیں۔کانگریس یہ بھی کہہ رہی ہے کہ اگر وہ سوچتے ہیں کہ یہ بات معافی مانگنے کے قابل نہیں ہے تو ایوان میں اس بات کی صفائی ہی دیں کہ آخر کس تناظر میں انہوں نے اتنا سنگین الزام لگایا۔کانگریس نے یہ بھی کہاکہ اس اجلاس میں نہ صرف سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ شامل ہوئے تھے بلکہ سابق فوجی سربراہ دیپک کپور کے علاوہ کئی سینئر صحافی اور سفارتکار بھی شامل تھے۔راجیہ سبھا میں کانگریس ممبران پارلیمنٹ نے پہلے وزیر اعظم مودی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی لیکن بعد میں وہ ’شرم کرو بیان واپس لو‘کے نعرے پر آ گئے۔ایوان میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کانگریس کے موقف کو صاف کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس تو چاہتی ہے کہ پی ایم اپنے اس بیان کے لئے معافی مانگیں لیکن اگر معافی مانگنے میں کوئی دقت ہے تو وہ خود بتائیں اور کہیں کہ انہوں نے گجرات الیکشن جیتنے کے لئے اسے ایک اسٹنٹ کے طور پر بولا جس کا انتخابی فائدہ انہیں ہو گیا۔وہیں دوسری طرف لوک سبھا میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے رہنما ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ معاملہ اتنا سنگین ہے کہ وزیر اعظم مودی کو اس سازش کے ثبوت پیش کرنے چاہئیں ورنہ پھر صفائی دینی چاہیے کہ آخر ملک کے سابق وزیر اعظم سمیت اس میٹنگ میں موجود تمام معزز لوگوں کی حب الوطنی پر انہوں نے کس طرح سوال اٹھا دیا۔کانگریس کہہ رہی ہے کہ منی شنکر کے گھر کی میٹنگ کو لے کر ہی نریندر مودی نے گجرات کے انتخابی جلسے میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ پر جو الزام لگائے اس کا ثبوت پیش کریں اور اس اجلاس میں گجرات انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کی کوئی سازش رچی گئی ثابت کریں اور مقدمہ درج کرکے سب کو جیل بھیجیں یا پھر وہ اپنے بیان کے لئے معافی مانگیں۔ 


Share: